Type Here to Get Search Results !

ALI KAY AANAY SAY | Mirza Hasan Mujtaba 13 Rajab Manqabat 2024

ALI KAY AANAY SAY | Mirza Hasan Mujtaba 13 Rajab Manqabat 2024   In Urdu Text

ALI KAY AANAY SAY | Mirza Hasan Mujtaba 13 Rajab Manqabat 2024


جیسے علی کی تیغ تھی میدان کے لیے

ذکرِ علی ہےنسل کی پہچان کے لیے

کعبے میں در علی کے لیے اس طرح کھلا 

جیسے ہو منتظر کوئی مہمان کے لیے


بہت اداس کھڑا تھا وہ ایک زمانے سے

 کھلا ہے کعبے کا چہرہ علی کے انے سے 


جبیں کو چوم کے حیدر کی مصطفے نے کہا

گہر ملا ہے یہ اللہ کے خزانے سے


کوئی بری، کوئی غازی، کوئی بنا شہباز

ابوتراب کی چوکھٹ پہ سر جھکانے سے

مرزا حسن مجتبیٰ 


مشکیں لباسِ کعبہ علی کے قدم سے جان

ناف زمین ہے نہ کہ ناف غزال ہے

( مرزا غالب )


چٹخ کے کہتا ہے تیرا رجب کو یہ کعبہ 

علی کو بھول نہ پاؤ گے تم بلانے سے


دنیا میں جھلک خلد کی ایک بار دکھا دے 

اللہ نجف کا مجھے دربار دکھا دے

 دروازہ بہت خوب ہے پر شیخ مجھے تو 

کعبے کی وہ ٹوٹی ہوئی دیوار دکھادے



منافقین کے سینوں میں آگ لگتی ہے

جدارِ خانہِ کعبہ کے مسکرانے سے


علی کے عشق میں گر قید ہوگئی مجھ کو

علی کی مدح کروں گا میں قید خانے سے


علی کی یاد میں آنسو بہا رہا ہوں حسن

نجف بلالیں وہ شاید اسی بہانے سے


نبی کا سایہ وہ بن کے ہر ایک جگہ ملے گا 

علی کی صورت رسول کو ائینہ ملے گا 


تمام پیروں کی قبر پر تختیوں کو پڑھ لو

 ہر اک ولی کا علی سے ہی سلسلہ ملے گا


کروڑوں دستاریں جوتیوں پر رکھی ملیں گی

 علی کے در پہ ہر ایک سلطاں پڑا ملے گا


 نماز کے بعد مسجدیں ساری بند ہوں گی

 نجف میں شیر خدا کا روضہ کھلا ملے گا


علی کے اللہ کو ضرورت نہیں مکاں کی 

خدا کے گھر میں نصیریوں کا خدا ملے گا 


مٹا سکو تو نشان کعبے سے تم مٹا دو

 فضائل مرتضی چھپانے سے کیا ملے گا ؟

Top Post Ad

Below Post Ad

Send Noha Lyrics
Right click is disabled for this website.